Friday, September 22, 2017

امتحان

کون جیتا ہے، سدا،
 پھر بھی یہ تمنا کیا ہے،
 لگتا یہ ایک دھوکا ہے، 
پر کثرت انسان، اسی مین پھنسا ہوا ہے،
 یہ جال کسی نے تو بچھایا ہے، 
پھنسا بہت سون کو اس مین پایا بے،
 بنانے والے نے تو بتایا بھی ہے، 
پھر تو یہ فریب نہ دھوکا ہے، 
بس یہ اک امتحان ہے،
 اور ہماری عجلت بس عیان ہے.

Monday, November 9, 2015

نیند اور سپنے

نیند اور سپنے
نیند اور سپنے،
کب ہون گے اپنے،
نیند آتی نہین،
جاگ جاتی نہین،
نیند سو گئی،
 اور ہم جاگتے رہے،
بڑی مشکل سے اسے جگایا ،
خود سونے کے لے،
سوتے ہی سپنے آگئے،
 جگانے کے لئے،
مین نے ان سے کہا کیون آئے ہو،
 مجہے تو عادت ہے،
 تمہین جاگتے مین دیکہنے کی،
کہنے لگے ،
وہی تو تمہین سونے نہین دیتے،
لگ جاتے ہو ان کی تعبیرون مین،
اور قصور نیند بیچاری کا دیتے ہو،
ہم سے لو لگالو،

اور بس سوتےہی سوتے رہو۔

Sunday, August 2, 2015

تشنگئ حسن


قصور نہین ان پیاسی آنکہون کا،
حسن تشنہ دیدگی ہے،
ان کی چاہت ثبات ہستی،
ہمین جاودان کر چلی۔

Tuesday, July 28, 2015

کانٹے

پھولون تلے ہی کانٹے اگتے ہین،                                
اور ان کے چاہنے والون کو چبہتے ہین،                    
 بنام محافظ گل،                                              
اپنی ہی بقا ڈھونڈتے ہین۔     

Friday, July 17, 2015

انمول

وہ میرا تہا،کسے پتا تہا،
پتا ہوتا،تو کیا ہوتا،
جب مین ہی اپنی نہین،
تومیرا کیا ہوتا۔

مین سب کی ہون،
بکتی ہون،
بولی کوئی لگاتا ہے،
لے کوئی اور جاتا ہے۔

وہ تو میرا ہے،
جس نے کیا مجہے تیرا ہے،
جس نے مجہے بنایا ہے،
جب وہ تم سے پوچہے گا،
وہ تو میری تہی،
کی مین نے تیری تہی،
اب دے حساب مجہے،
کیون مول لگایا اس کا،
جوانمول تہی۔

جمیل احمد
( نوٹ:شاعری مجہے آتی نہین،احساس مجہے چھوڑتے نہین،بس جو ہے،جیسا ہے آپ کے سامنے ہے)

Monday, May 4, 2015

جینے کی لگن

مرنا! کیا بات ہے،
بہادرون کی سوغات ہے،
بزدلون کی خودکشی ہے،
انسانون کی منتہائے زندگی ہے۔
جینے کی جستجو بہی تو قربانی ہے،
اب ہم یہ قربانی دین گے
طعنے سہین گے،
پیچہے نہ ہٹین گے،
موت کے سوداگرو،
موت تو ناگزیر ہے
کسے ڈرانے چلے ہو،
ہم تو جینے کی لگن پیدا کرنے چلے ہین۔


Thursday, April 30, 2015

زندگی کی جیت

موت کو تو بس ایک بہانہ چاہيے،
زندگی کو ایک بڑا کارخانہ چاہيے،
پھر بہی زندگی جیتے ہو ئے ہے،
اور ہم موت کے ڈر سے سہمے ہوئے ہین۔