Monday, November 9, 2015

نیند اور سپنے

نیند اور سپنے
نیند اور سپنے،
کب ہون گے اپنے،
نیند آتی نہین،
جاگ جاتی نہین،
نیند سو گئی،
 اور ہم جاگتے رہے،
بڑی مشکل سے اسے جگایا ،
خود سونے کے لے،
سوتے ہی سپنے آگئے،
 جگانے کے لئے،
مین نے ان سے کہا کیون آئے ہو،
 مجہے تو عادت ہے،
 تمہین جاگتے مین دیکہنے کی،
کہنے لگے ،
وہی تو تمہین سونے نہین دیتے،
لگ جاتے ہو ان کی تعبیرون مین،
اور قصور نیند بیچاری کا دیتے ہو،
ہم سے لو لگالو،

اور بس سوتےہی سوتے رہو۔