نیند اور سپنے
نیند اور سپنے،
کب ہون گے اپنے،
نیند آتی نہین،
جاگ جاتی نہین،
نیند سو گئی،
اور ہم
جاگتے رہے،
بڑی مشکل سے اسے جگایا ،
خود سونے کے لے،
سوتے ہی سپنے آگئے،
جگانے
کے لئے،
مین نے ان سے کہا کیون آئے ہو،
مجہے تو
عادت ہے،
تمہین
جاگتے مین دیکہنے کی،
کہنے لگے ،
وہی تو تمہین سونے نہین دیتے،
لگ جاتے ہو ان کی تعبیرون مین،
اور قصور نیند بیچاری کا دیتے ہو،
ہم سے لو لگالو،
اور بس سوتےہی سوتے رہو۔