مرنا! کیا بات ہے،
بہادرون کی سوغات
ہے،
بزدلون کی خودکشی
ہے،
انسانون کی
منتہائے زندگی ہے۔
جینے کی جستجو
بہی تو قربانی ہے،
اب ہم یہ قربانی
دین گے
طعنے سہین گے،
پیچہے نہ ہٹین
گے،
موت کے سوداگرو،
موت تو ناگزیر ہے
کسے ڈرانے چلے
ہو،
ہم تو جینے کی
لگن پیدا کرنے چلے ہین۔